عثمان مرزا کیس میں مزید دفعات شامل، ملزم موبائل فون برآمد کر کے فرانزک کے لیے بھجوائے جا رہے ہیں: پولیس کی پریس کانفرنس

  • شہزاد ملک
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
خواتین

اسلام آباد پولیس نے دارالحکومت میں ایک جوڑے پر تشدد سے متعلق ویڈیو کیس میں ملزمان کے خلاف درج مقدمے میں بھتہ خوری، ڈکیتی ریپ، جنسی ہراسانی سمیت مزید دفعات کا اضافہ کر رہی ہے۔

پولیس نے مرکزی ملزم عثمان مرزا کے فون فرانزک کے لیے بھی بھجوا دیے ہیں۔

پیر کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب میں اعلیٰ حکام شریک تھے۔

اس حوالے سے جاری پریس ریلیز کے مطابق اس مقدمے کی روشنی میں ملزمان کو سزائے موت اور عمر قید کی سزائیں ہو سکتی ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان کی پشت پناہی کرنے والا جو بھی سامنے آئے گا اسے بھی قانون کی گرفت میں لیا جائے گیا۔

یہ بھی بتایا گیا کہ کیس میں مرکزی ملزم عثمان مرزا کے موبائل فون برآمد کر کے فرانزک کے لیے بھجوائے جا رہے ہیں اور متاثرہ لڑکے اور لڑکی کا بیان بھی قلمبند کرلیا گیا ہے۔

حکام نے تصدیق کی کہ اس وقت چھ ملزامان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ اس کیس میں کچھ نئے حقائق سامنے آنے کے بعد ان کی روشنی میں ایف آئی آر میں کچھ نئی دفعات کا اضافہ کیا جا رہا ہے۔ ان میں 377 ی، 496 اے، 114پی پی سی، 395 پی پی سی، 384 پی پی سی، 375 ڈی پی پی سی، 375 اے شامل ہیں۔

حکام کے مطابق ملزم عثمان مرزا نے متاثرہ جوڑے سے بھتہ بھی وصول کیا ہے۔

پولیس حکام کے مطابق ملزم عثمان کے خلا ف تھانہ سہالہ میں بھی ایک مقدمہ درج ہے۔

پولیس نے اپنے پیغام میں عوام سے کہا ہے کہ ملزمان کی وجہ سے کوئی متاثرہ شخص ہے تو اسے پولیس سے رابطہ کرنا چاہیے۔

اس سے قبل جمعے کو دارالحکومت اسلام آباد کی ایک عدالت نے تمام ملزمان کو چار دن کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دیا گیا تھا۔

اسلام آباد پولیس کے اعلیٰ اہلکاروں کی متاثرہ جوڑے اور ان کے خاندان سے ملاقات کی جس کے بعد ایس پی عطا الرحمان کا کہنا تھا کہ 'اس واقعے میں ملوث حیوانی ذہنیت رکھنے والے افراد کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے اور یہ ہمارا اپنا مقدمہ ہے ہم اسے آخر تک لڑیں گے۔'

لڑکا، لڑکی کی جانب سے تصدیق کی گئی کہ ان دونوں کی اب شادی ہو چکی ہے۔

ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس کی جانب سے متاثرہ جوڑے تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی کیونکہ مقدمے میں ان کے بیانات بھی خاصی اہمیت کے حامل ہیں۔

خیال رہے کہ رواں ہفتے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی اس ویڈیو کے کچھ کلپس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ملزم عثمان مرزا اور ان کے ساتھی ایک کمرے میں نوجوان لڑکے اور لڑکی پر تشدد کر رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہISLAMABAD POLICE

،تصویر کا کیپشن

مرکزی ملزم عثمان مرزا

ویڈیو میں ملزم لڑکے اور لڑکی کو گالیاں دیتے ہیں اور ان کے چہرے پر بار بار تھپڑ مارتے ہیں۔

یہ بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ دونوں کے کپڑے اتارنے کی کوشش کرتے ہیں اور انھیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دیتے ہیں۔

’اندر فیملی ہے، آپ اندر نہیں جا سکتے‘

مقدمے کی تفتیشی ٹیم میں شامل اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ لڑکی کسی دوسرے شہر کی رہائشی ہے۔ وہ اس واقعے کے دن ایک امتحان کے سلسلے میں اسلام آباد آئی تھیں اور انھوں نے اپنے منگیتر سے شہر میں رہائش کا بندوبست کرنے کا کہا تھا۔

اہلکار کے مطابق متاثرہ لڑکے نے اس مقدمے کے مرکزی ملزم عثمان مرزا کے ایک دوست سے فلیٹ ایک رات کے لیے کرائے پر لیا۔

اہلکار کے مطابق جب وہ دونوں فلیٹ میں موجود تھے تو ملزم عثمان مرزا کا بھائی وہاں آیا اور اس نے فلیٹ کے اندر جانے کی کوشش کی۔ اس پر عثمان مرزا کے دوست نے اسے بتایا کہ اندر فیملی موجود ہے جس کی وجہ سے وہ اندر نہیں جا سکتے۔

پولیس اہلکار کے مطابق یہ سن کر ملزم کے بھائی نے عثمان مرزا کو فون کیا جو اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ وہاں آ گیا اور لڑکے اور لڑکی کے ساتھ بدسلوکی کی۔

پولیس اہلکار کے مطابق اس بدسلوکی کی ویڈیو بنانے کے بعد ’ملزمان نے انھیں دھمکی دی کہ اگر انھوں نے کسی سے اس واقعے کا ذکر کیا تو وہ یہ ویڈیو وائرل کر دیں گے۔‘

اسلام آباد پولیس کے سربراہ قاضی جمیل الرحمٰن کے مطابق ملزم عثمان مرزا شادی شدہ ہیں اور ان کے بچے بھی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

مقدمے کی کارروائی میں کیا ہوا؟

جمعے کو جب ملزم عثمان مرزا اور اس کے دو ساتھیوں فرحان اور عطا الرحمن کو جب عدالت میں پیش کیا گیا تو مقدمے کے تفتیشی افسر نے کہا کہ انھیں ملزمان سے ڈیٹا حاصل کرنے کے علاوہ دیگر معاملات پر بھی تفتیش کرنی ہے جس کے لیے ملزمان کا مزید جسمانی ریمانڈ درکار ہے۔

،تصویر کا ذریعہANI

تاہم عثمان مرزا کے دونوں ساتھیوں کے وکلا نے جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے میں ان کے موکل کا کوئی کردار نہیں ہے۔

ان کے وکلا کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی اس ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ دونوں کا اس فعل میں کوئی کردار نہیں بلکہ وہ عثمان مرزا کو ایسا کرنے سے منع کر رہے ہیں۔

ملزمان کے وکلا کا کہنا تھا کہ پولیس کے پاس اس ویڈیو کے علاوہ اور کوئی مواد موجود نہیں ہے تو پھر ’ملزمان کا مزید جسمانی ریمانڈ کیوں درکار ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ اگر کوئی اور شہادت سامنے نہیں آئی تو پھر ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجا جائے۔

تاہم جب وکلا نے نکتہ اٹھایا کہ یہ واقعہ تو ایک کمرے میں ہوا ہے تو پھر ملزمان کے خلاف درج مقدمے میں دفعہ 354 اے کا اضافہ کیوں کیا گیا جو کہ کسی کی عزت اچھالنے کے بارے میں ہے تو تفتیشی افسر نے جواب دیا کہ 'ابھی ملزمان سے دفعہ 354 اے کے تحت ہی تو تفتیش ہونا باقی ہے۔ سوشل میڈیا پر کسی کی عزت کو تار تار کیا گیا اور ابھی بھی یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ واقعہ تو ایک کمرے میں ہوا ہے۔'

ملزمان کے وکلا نے اپنے دلائل میں کہا کہ اگر فرحان اور عطا الرحمن کسی ویڈیو میں اس مقدمے کے مرکزی ملزم عثمان مرزا کے ساتھ اکھٹے فلیٹ میں جاتے نظر آتے ہیں تو بے شک انھیں بھی مرکزی ملزم کے ساتھ سزا دیں لیکن حالات اس کے برعکس ہیں۔

ان کے مطابق ’پلازے میں لگے سی سی ٹی وی کیمروں سے ان دونوں ملزمان کی فوٹیج حاصل کرلی جائیں تو حقائق کھل کر سامنے آجائیں گے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’پولیس نے اس مقدمے کے مرکزی ملزم عثمان مرزا سے جو برآمد کرنا ہے، کر لیں لیکن باقی دو ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا جائے۔‘

تاہم عدالت نے ملزمان کے وکلا کے دلائل سے اتفاق نہیں کیا اور ان تیوں ملزمان کو چار دن کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دے دیا۔

وزیراعظم کا نوٹس اور سائبر کرائم کے پہلو

اس معاملے کی بازگشت وزیراعظم ہاؤس تک رہی اور عمران خان نے آئی جی اسلام آباد قاضی جمیل الرحمن سے ملاقات میں اس معاملے پر ہونے والی پیش رفت سے وزار اعظم کو آگاہ کیا گیا۔

ایک بیان کے مطابق آئی جی اسلام آباد نے وزیر اعظم کو بتایا کہ ملزمان کی گرفتاری کے بعد مضبوط فوجداری کارروائی اور سزا دلاوانے کے لیے وہ خود اس کیس کی نگرانی کر رہے ہیں اور مزید شواہد اکٹھے کرنے کے لیے تمام تکنیکی وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔

یاد رہے گذشتہ روز وزیر اعظم عمران خان نے بھی اس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے دارالحکومت کی پولیس کو اس کی جلد از جلد تفتیش مکمل کرنے کا حکم دیا تھا۔

اسلام آباد پولیس نے اس معاملے میں تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ کی خدمات بھی حاصل کر لی ہیں۔

پولیس کے مطابق ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ کے اہلکار ان اکاؤنٹس کے بارے میں معلومات اکٹھی کریں گے جن سے یہ ویڈیو فیس بک اور سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی گئی۔ مقدمے کی تفتیش کرنے والی ٹیم میں شامل ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ملزمان کے زیر استعمال موبائل فونز کو فرانزک لیبارٹری بھجوا دیا گیا ہے۔

ایس ایس پی آپریشنز مصطفیٰ تنویر نے بتایا کہ ان کی معلومات کے مطابق اس واقعے میں ملوث ملزمان کے نام امیگریشن حکام کو بھی دیے گئے ہیں تاکہ وہ ملک سے فرار ہونے کی کوشش نہ کر سکیں۔